20 ستمبر 2026 - 22:12
آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہاز کا بَصَرِی شکار، ایرانی انداز سے - 1

"قاسم بصیر" الیکٹرو آپٹیکل میزائل کے امریکی بحری جہاز پر لگنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اپنے میزائلوں کی رینج اور تخریبی طاقت (Destructive power) کی طاقت میں اضافے کے علاوہ الیکٹرانک جنگی ماحول میں درست نشانہ بندی کی صلاحیت بھی حاصل کر لی ہے؛ ایسی قابلیت جو خلیج فارس سے بحیرہ عمان تک امریکی بیڑے کی آزادیِ عمل کو محدود کرتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || "قاسم بصیر" میزائل کا امریکی بحری جہاز پر لگنا محض ایک کامیاب فائرنگ یا تخریبی طاقت کا مظاہرہ نہیں تھا؛ اس کارروائی نے ایران کی بحری طاقت کے ایک انتہائی اہم حلقے کی تکمیل کو عیاں کر دیا: ایسے ماحول میں دشمن کے بحری جہاز کا سراغ لگانے، شناخت کرنے اور درست نشانہ بنانے کی صلاحیت، جہاں امریکہ الیکٹرانک مداخلت، فریب اور کئی پرتوں پر مشتمل دفاع کے ذریعے غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس کارروائی میں ایسا میزائل استعمال کیا گیا جو اب تک منکشف ہونے والی خصوصیات کے مطابق آخری مرحلے میں GPS پر انحصار نہیں کرتا اور کئی اہداف کے بیچوں بیچ متعینہ ہدف کو پہچان لیتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکی بحری جہاز اب محض سیٹلائٹ سگنلز میں مداخلت، ترتیب بدلنے یا اپنے ریڈار بند کرنے سے میزائل کی زد سے باہر بچ نہیں نکل سکتا۔

اس کارروائی میں جو کچھ دیکھا گیا وہ ایران کے پوائنٹ ہٹ میزائلوں کا ڈرون، ریڈار، بحری اور ساحلی تشخیصی نیٹ ورک سے مربوط ہونے کا نتیجہ تھا؛ ایسا نیٹ ورک جس نے خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان کے بڑے حصے کو ایک مسلسل ڈیٹیکشن اور ثارگیٹنگ کا میدان بنا دیا ہے۔

وہ میزائل جو ٹکرانے کے لمحے، فیصلہ کرتا ہے

بحری جنگ میں میزائل کو دشمن کی موجودگی کے دائرے تک پہنچانا مشن کا صرف آدھا حصہ ہے۔ نشانہ بننے والا بحری جہاز میزائل کی پرواز کے دوران جگہ بدلتا ہے، بیڑے کی ترتیب بدل جاتی ہے اور فریب کاری کے نظامات (Deception Systems) میزائل کو کسی غیر اہم ہدف کی طرف موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہاں بصری کھوج کا نظام (Optical Searching System) میزائل کی آنکھ بن جاتا ہے۔ یہ سینسر متعینہ دائرے میں پہنچنے کے بعد اپنے سامنے کا ماحول دیکھتا ہے، اصل ہدف کو موجودہ اہداف کے بیچوں بیچ پہچان لیتا ہے اور آخری مرحلے میں اپنا راستہ درست کر دیتا ہے۔ اس طرح میزائل محض پہلے سے طے شدہ ہدف پر حملہ نہیں کرتا، بلکہ پرواز کے آخری مرحلے میں ہدف کی تصویر دیکھتا ہے اور اپنی حرکت کو اس کی پوزیشن کے مطابق ڈھالتا ہے۔

یہ خصوصیت خلیج فارس کے گنجان ماحول میں خاص اہمیت رکھتی ہے، جہاں ممکن ہے کہ جنگی، معاونتی اور تجارتی جہاز محدود فاصلوں پر ایک دوسرے کے ساتھ چل رہے ہوں۔ ایسے میں اصل ہدف کی پہچان اتنی ہی اہم ہے جتنی رینج، رفتار اور وار ہیڈ کی طاقت۔

سمندر کی گہرائی میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر شیلڈ کی شکست

امریکہ نے اپنے بحری جہازوں کے دفاع کا اہم حصہ الیکٹرانک جنگ پر استوار کیا ہے؛ یعنی مواصلات میں مداخلت، سیٹلائٹ نیویگیشن میں خلل ڈالنا اور حملہ آور میزائل گائیڈنس سسٹم کو فریب دینا۔

آپٹیکل سرچر یا بصری کھوج کے نظام کی یہ برتری ہے کہ اس کو آخری مرحلے میں ہدف دیکھنے کے لئے ریڈار کی لہریں (Radar waves) پھیلانے یا GPS معلومات مسلسل وصول کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی لئے محض ریڈیائی مداخلت میزائل کو ہدف سے دور نہیں کر سکتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی طلوع وند

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha